متن‌ساز

سافٹ ویئر میں اردو کی نمائندگی کے لئے کراس ڈسپلنری کوشش

Artboard.png

ایک مفید اور معقول اردو کی‌بورڈ

 

عام طور سے استعمال ہونے والے اردو کی بورڈ QWERTY کی بورڈ کے سانچے پر تیار کیے جاتے ہیں۔ یعنی کہ ان کی‌بورڈ میں اتنے ہی بٹن ہوتے ہیں جتنے کہ انگریزی زبان میں ہروف۔ ٖظاہر ہے کہ یہ ڈیزائن اردو کے لیے نا کافی ہے کیونکہ اردو میں انگریزی سے زیادہ حروف ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے تیار کردہ معیاری ترتیب اردو حروف کو QWERTY کی‌بورڈ پر فونیٹک بنیاد سے جوڑتی ہے۔

اس سے ٹیکنالوجی میں یہ تصور پکاّ ہو جاتاہے کہ اردو کمپیوٹنگ سے قبل انگریزی کمپیوٹنگ سے واقف ہونا ضروری ہے۔ کمپیوٹنگ، ٹائپ رائٹنگ، اور طباعت کی تاریخ میں ایسے کئی سمجھوتے کیے جا چکے ہیں۔ ان سمجھوتوں کی فہرست میں یہ صرف ایک ہے۔ ان سمجھوتوں کا بوجھ اردہ، عربی رسم الخط استؐعمال کرنے والی دیگر زبانوں، اور غیر لاطینی زبانوں نے اٹھایا ہے۔

اس کا نتیجہ آج پاکستان میں وہ ناقابلِ‌رد یقیں ہے کہ انگریزی ہی کمپیوٹنگ کی زبان ہے۔ یعنی اردو کمپیوٹنگ کے لئے کبھی کافی نہیں ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ کمپیوٹنگ اردو کے لیے ناکافی ہے۔ یہ منصوبہ ناصرف تکنیکی ڈیزائن پر سوال اٹھاتا ہے، بلکہ ایک عوامی اقدام سے کی بورڈ کو آزما کر، اور زبان کے موڈل تیار کر کے مقامی ٹیکنالوجی کے سماجی تصورات بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف زبانوں کے لیے بہتر ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا، بلکہ ٹیکنالوجی کی ملکیت کے تصور کو بدلتے ہوئے، ہماری موجودہ پریکٹس میں ایک تازہ کلچرل، سماجی اور تاریخی بیداری پیدہ کرے گا۔

 
 

ڈیولپرز کے لیے وسائل

 

ان پہلے پراجکٹس کا چنائو اس لئے کیا گیا کیونکہ ان کو بنانے کے لیے جن درمیانی وسائل کو بنانے کی ضرورت ہے، ان کو کسٹومرز اور ڈیولپرز کے لیے اوپن سورس کر کے نئے تخلیقی استعمال کے لیے لگایا جا سکتا ہے۔

ان میں شامل ہیں: عربی رسم‌الخط کے ردوبدل کے لئے لابریریز، انٹرفیس کی رہنمائی، آپ کے کمپیوٹر پر اردو اور دوسرے زبانیں استعمال کرنے کے لیے وسائل، اور عوامی دائرے میں زبان کے ماڈلز۔