The Urdu Project

متن‌ساز کی‌بورڈ

ایک سمارٹ فون کی‌بورڈ جو اردو زبان کی پیچیدگیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا۔ بالکل اوپن سورس — ہماری زبان اب پھر ہمارے ہاتھ میں۔ 

 

ایک کی بورڈ ڈیجیٹل متن‌سازی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ لہذا انٹرنیٹ اور سافٹ‌وئر میں اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کی نمائندگی کے لئے کوئی بھی کوشش ، کی بورڈ سے شروع ہوتی ہے۔

یہ کوشش ابھی ضروری ہے، کیونکہ اس خطّے میں لاکھوں لوگ سمارٹ فونز کی دستیابی کے ذریعے آن لائن دنیا میں شامل ہو رہے ہیں۔

متن‌ساز کی بورڈ اردو کی ڈیجیٹل نمائندگی کا ایک نیا تصور ہے۔ نئے اور پرانے خیالات کو لے کر، اردو اور ٹیکنالوجی کی تاریخی دوڑ میں اس طرح رکھا گیا ہے کہ زبان کی ڈیجیٹل نمائندگی کا ایسا تصور کیا جا سکے جس میں سمجھوتے نہ ہوں۔

 
 

ڈیزائن کے امکانات

 

بہترین حل کی تلاش میں ہم کئی ڈیزائن آزما رہے ہیں۔ یہ سب ڈیزائن بیٹا ٹیسرز کے لئے دستیاب ہوں گے۔

فی‌الحال یہ کی‌بوڑد iOS کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

 
 
IMG_1695.png

واضح ترتیب

اردو بولنے والے کسی فرد سے بھی ٹائپنگ پرگفتگو ہو — مقامی یا غیر ملکی، تجربہ کار یا غیر تجربہ کار، بزرگ یا نوجوان — یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ اردو کی‌بورڈ میں حرف ڈھونڈنا کتنا کٹھن ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ QWERTY بھی اسی طرح غیر واضح ہے، مگر QWERTY کے پاس ایک صدی تھی جس میں وہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ بہتر ترتیب بھی اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتی۔

زیادہ تر اردو بولنے والوں نے کم ہی ٹائپنگ کی ہے، خاص طور پہ اردو میں۔ مؤثر متن کی تخلیق کے لیے ایک واضح کی‌بورڈ اشد ضروری ہے۔

حروفِ تہجّی پر مبنی ترتیب کے ساتھ ساتھ، ہر کلید نستعلیق رسم‌الخط میں حروف کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ہم ٹائپنگ کی رفتار پر کی‌بورڈ کی ترتیب کے اثرات کا تعین کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے حروفِ تہجّی پر مبنی ترتیب کا موازنہ ایک ایسی ترتیب جو حروف کے زبان میں استعمال پر مبنی ہو کیا جا رہا ہے۔

 

شفٹ کلید کو الوداع

 

دو سطحی کی‌بورڈ، جو گویا کمپیوٹنگ کی پہچان بن گیا ہے، ابتدائی طور پر ٹائپرائٹرز میں استعمال کیا گیا۔ اس کا مقصد کلیدوں کی تعداد کم رکھتے ہوئے لاطینی رسم‌الخط کے حروف کو پیش کرنا تھا۔ شفٹ کلید کے ذریعے اپر کیس حروف ٹائپ کیے جا سکتے تھا۔

سمارٹ فون کی‌بوڑڈ کے متن سازی کا بنیادی انٹرفیس بننے کے باوجود، اردو حروف کو شفٹ کلید کے پیچھے سے نکالنا ابھی تک صرف ایک نامور آپریٹنگ سستم میں اپنایا گیا ہے۔

 
 
 

تشکیلِ حروف کی نمایندگی کرنے والی کلید

عربی رسم‌الخط میں حروف کے جوڑنے میں حروف لفظ میں اپنی جگہ کے ساتھ اپنی صورت بھی بدلتے ہیں۔

بچوں کو تجزیہ کی دو سطحوں پر سوچنا سکھایا جاتا ہے۔ پہلے ہر حرف کو اپنی علیحدہ صورت میں پہچانا جاتا ہے۔ اور پھر ہر حرف کو الفاظ کے اندر مختلف صورت میں۔ مثلاً حروف م + ت + ن مل کر لفظ متن بناتے ہیں۔ یہ توڑ جوڑ کی ابتدائی مشق ہے۔

ذہن میں یہ جوڑنے کے بعد، الفاظ لکھنے کے لیے حروف کے علیحدہ صورتوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ کلید پہ حروف کی نمائندگی ان علیحدہ صورتوں کے ذریعے سے کرنے میں اضافی ذہنی کوشش درکار ہوتی ہے، اور ٹائپنگ میں غلطی کے نشاندہی کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

Screen Shot 2018-04-24 at 10.46.10 PM.png
 
IMG_1694.png

عربی رسم‌الخط کے لئے ایک حقیقی کثیراللسان کی‌بورڈ

کڑوڑوں اردو بولنے والوں کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ علاقائی زبانوں، جیسے پشتو، سندھی، بلوچی اور پنجابی،کی ڈیجیٹل دنیا میں نمائندگی اردو سے بھی کم ہے۔

ایک سے زیادو زبانیں بولنے والوں کو اپنی زبانیں ٹائپ کرنے کے لیے کئی جگاڑ تلاش کرنا پڑھتے ہیں (افسوس کے جگاڑ کا لفظ بھی اردو میں ایک جگاڑ ہے)، جیسا کہ اردو کی‌بورڈ استعمال کرتے ہوئے شفت اور ہولڈ کے ذریعے سے دیگر زبانوں کے حروف تک پہنچنا۔

یہ ڈیزائن پوری عربی رسم‌الخط کو حروف کی چند ضروری صورتوں تک گھٹا دیتا ہے، جنہیں رسم کہا جاتا ہے۔ پھر آٹو کمپلیٹ سافٹ‌وئر صحیح حرف کا چناؤ کرتا ہے۔

کی‌بورڈ جن زبانوں کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہو، وہ زبانی ماڈل کی‌بورڈ سے جوڑے جا سکتے ہیں۔

مخصوص حروف کلید کو دبائے رکھنے سے بھی چنے جا سکتے ہیں۔

 

اعراب

 

ہر اعراب خود ڈالنے کی بجائے سافٹ‌وئر کے استعمال سے سارے اعراب خودبخور بھی ڈالے جا سکتے ہیں۔ البتّہ اعراب خود سے ڈالنے کا انتخاب بھی موجود ہے۔

 
 

مجموعی ملکیت پر مبنی زبانی ماڈل

 

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا کی زبانوں کی قابلِ تعریف خدمت کرتی ہیں، مگر ان زبانوں کے اندر بسے کلچر کو محفوظ کرنے کے لیے یہ کمپنیاں صحیح ادارے نہیں ہیں۔ مغربی کمپنیوں پر یہ کام چھوڑنے سے نہ صرف ان پر انحصار بڑھتا ہے بلکہ زبانیں اپنا آپ بھی ٹیکنالوجی کو کھو دیتی ہیں۔

متن‌ساز کی تعمیر بنیاد سے اوپر تک اس منزل کے لیے کی گئی ہے کہ معاشرہ زبانی ماڈل بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

بڑھتی ہوئی تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں بسے تعصبات بھونڈے طریقوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ بھی دکھایا جا چکا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی رویوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ زبان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ وہ وسائل جن سے آٹوکریکٹ اور آٹوکمپلیٹ ٹیکنالوجی بنائی جائیں، ان کا چناؤ بہت احتیاٹ سے کیا جائے، تاکہ زبان کے ضروری کوائف کو بغیر کسی تعصب کی آمیزش کے محفوظ کیا جا سکے۔

 
 

زبانی ماڈل کی مدد کیجیے

 

اگر آپ ڈیجیٹل صورت میں کسی متن کے مالک ہیں جس سے ہمارے زبانی ماڈل کو بہتر بنایا جا سکتاہے، تو ہم سے ضرور رابطہ کیجیے۔

 
 

ابتدائی رسائی حاصل کیجیے

 

بیٹا ٹیسٹ میں شامل ہونے کے لیے اپنی معلومات ذیل میں درج کیجے، اور ڈیجیٹل دنیا میں اردو کے مستقبل پر اپنا اثر ظاہر کیجیے۔

 
تاریخِ‌ پیدائش *
تاریخِ‌ پیدائش
ہمیں آپ کی عمر ادارے کی تعمیل کے لیے درکار ہے۔